قسط کیلکولیٹر
ماہانہ قسط
Rs 22,244
مدت بھر میں کل سود
Rs 334,667
قرض دہندہ کو کل ادائیگی
Rs 1,334,667
یہ قسط کیسے نکلتی ہے
- سالانہ شرح کو 12 پر تقسیم کرنے سے ماہانہ شرح بنتی ہے، اور مدت کے سال 12 سے ضرب دینے سے قسطوں کی تعداد۔
- فی قسط = رقمِ قرض × ماہانہ شرح × (1 + ماہانہ شرح)^قسطوں کی تعداد، تقسیم ((1 + ماہانہ شرح)^قسطوں کی تعداد − 1)۔
- یہ گھٹتی ہوئی بقینہ پر سود کا طریقہ ہے: ہر قسط میں سے جو حصہ اُسی ماہ کے سود پر جاتا ہے، باقی اصلِ قرض کاٹ دیتا ہے۔ اِسی لیے رقم تو ہر مہینے برابر رہتی ہے مگر سود اور اصلِ قرض کا تناسب ہر قسط کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔
- صفر شرح پر یہی عدد اصلِ قرض کو قسطوں پر تقسیم کر دیتا ہے، کیونکہ سود کا کوئی حصہ نہیں بچتا۔
ایک واضح مثال: Rs 1,000,000، 12 فیصد، پانچ سال
ماہانہ شرح1%
قسطوں کی تعداد60
ماہانہ قسطRs 22,244
پہلی قسط میں سودRs 10,000
پہلی قسط میں اصلِ قرضRs 12,244
قرض دہندہ کو کلRs 1,334,667
کل سودRs 334,667
یہ عدد کیا نہیں بتاتا
- شرح پوری مدت کے لیے مقررہ مان لی جاتی ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر فردانہ قرض بینک کی ریٹ سیٹنگ پر منسلک ہوتے ہیں، اور ریٹ بدلیں تو قسط بھی بدلے گی۔
- فائلنگ فیس، ہیلتھ انشورنس، ٹیکسِ کٹوتی اور پیشگی ادائیگی کے اخراجات شامل نہیں۔
- بینک رقم کو اپنی گولائی کے مطابق پورا روپے یا دس روپے تک لے جاتے ہیں؛ آخری قسط چند روپے کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
- سود کی سیدھی شرح سے اِس کا فرق بڑا ہے: اِسی مثال میں پانچ سال پر سیدھی 12 فیصد Rs 600,000 سود دکھاتی ہے، جبکہ گھٹتی بقینہ پر کل سود Rs 334,667 بنتا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کل سود اصلِ قرض کی شرح سے کم کیوں ہے؟
سود ہر مہینے بقیہ رقم پر لگتا ہے، شروع میں دی گئی پوری رقم پر نہیں۔ جیسے جیسے اصلِ قرض کم ہوتا جائے، سود کا حصہ بھی چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔
مدت بڑھا دوں تو کیا ہوگا؟
ماہانہ قسط کم ہو جائے گی مگر کل سود بڑھ جائے گا، کیونکہ رقم پر سود لگنے کے مہینے زیادہ ہو جاتے ہیں۔
کیا یہ بینک کی اپنی قسط ہے؟
نہیں۔ یہ اُسی فارمولے سے نکلا ہوا تخمینہ ہے جو زیادہ تر بینک لگاتے ہیں۔ اپنی اصل قسط قرض دہندہ سے تصدیق کریں۔
اصل قسط بینک کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے؛ قرض دہندہ سے تصدیق کریں۔