مرکزی مواد پر جائیں

زکوٰۃ کیلکولیٹر

یہ ابتدائی قدر تخمینی ہے؛ موجودہ نصاب کی تصدیق کریں۔

قابلِ زکوٰۃ اثاثے

Rs 0

متوقع واجب زکوٰۃ

درج کردہ نصاب سے کم ہیں، اس لیے کچھ واجب نہیں

یہ رقم کیسے بنتی ہے

  1. سونے اور چاندی کی کل قیمت وزن × فی گرام قیمت سے نکلتی ہے، پھر نقد اور بینک بیلنس جمع کیا جاتا ہے۔
  2. قابلِ قبول واجبات اُس مجموعے سے منہا کیے جاتے ہیں، اور نتیجہ صفر سے کم نہیں ہو سکتا۔
  3. اِس کے بعد بچنے والی رقم کا آپ کے لکھے ہوئے نصاب سے موازنہ ہوتا ہے۔ نصاب سے کم ہو تو زکوٰۃ صفر دکھائی جاتی ہے؛ پہنچ جائے تو درج کردہ شرح (عام طور پر 2.5 فیصد) کل قابلِ زکوٰۃ رقم پر لگتی ہے۔

ایک مثال، وہی اعداد جو خانوں میں لکھے ہیں

سونا: 20 گرام × 250,000Rs 5,000,000
نقد اور بینک بیلنسRs 800,000
منہا کیے گئے واجبات-Rs 300,000
قابلِ زکوٰۃ رقمRs 5,500,000
2.5 فیصد کے حساب سے زکوٰۃRs 137,500

یہ کیلکولیٹر کیا نہیں کرتا

  • سونے اور چاندی کے موجودہ بازار کے تاۓ نہیں لیتا۔ فی گرام قیمت آپ لکھتے ہیں، اِس لیے عدد اُسی قیمت پر کھڑا ہے۔
  • نصاب خود درج کرنا ہوتا ہے۔ روایتی نصاب سونے اور چاندی کے وزن سے بیان کیا جاتا ہے، اور روپوں میں اُس کا بدلنا آج کی قیمتوں پر منحصر ہے؛ یہ ٹول وہ تبدیلی خود نہیں کرتا۔
  • سال گزرنے (حول) کا حساب نہیں رکھتا، نہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آپ کا مال کب سے قابلِ زکوٰۃ تھا۔
  • کاروباری جنس، لگنے والے واجبات، کرایے کی آمدنی اور سونے کے زیورات کے بارے میں مختلف مسلکی رائے کے مسائل کو حل نہیں کرتا۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

واجبات پہلے کیوں کم کیے جاتے ہیں؟

زکوٰۃ خالص دولت پر غائی جاتی ہے۔ جو رقم کسی دین کی ادائیگی کے لیے پہلے سے مختص ہے، وہ عام طور پر قابلِ زکوٰۃ رقم سے نکال دی جاتی ہے؛ کون سا واجب قابلِ قبول ہے، یہ مسلکی مسئلہ ہے۔

نصاب سے نیچے ہو تو کیا ہوتا ہے؟

کیلکولیٹر زکوٰۃ صفر دکھاتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ نصاب سے کتنی رقم کم ہے۔ اِس سے آگے کا فیصلہ نصاب کی درست قدر پر منحصر ہے، اِسی لیے وہ خانہ خالی نہیں چھوڑا جاتا۔

کیا تنخواہ پر بھی اِسی حساب سے زکوٰۃ نکلتی ہے؟

یہ ٹول ایک دن کی مالیت گنتا ہے، سال بھر کی آمدنی نہیں۔ تنخواہ، بچت اور خرچ کا سالانہ حساب الگ ہے، اور زکوٰۃ کے مسائل مستند عالم سے پوچھنے چاہئیں۔

نصاب کی تصدیق کریں اور عالم سے مشورہ کریں۔